ہفتہ 3 جنوری 2026 - 15:37
کعبہ سے محراب تک؛ حیاتِ علی (ع) کا مبارک سفر

حوزہ/ امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کے والدِ گرامی حضرت ابو طالب تھے، جن کا اصل نام عِمران بن عبدالمطلب بیان کیا جاتا ہے، جبکہ کنیت ابو طالب مشہور و معروف ہے۔ آپ کی والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ بنت اسد بن ہاشم بن عبد مناف تھیں۔ اس طرح حضرت علی علیہ السلام ماں اور باپ دونوں جانب سے خالص ہاشمی تھے۔ حضرت فاطمہ بنت اسد وہ باعظمت خاتون ہیں جنہوں نے نہ صرف حضرت علی کو جنم دیا، بلکہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بھی ابتدائی پرورش میں اہم کردار ادا کیا۔

تحریر: آغا زمانی سکردو

حوزہ نیوز ایجنسی|

ولادت، نسب اور ابتدائی تربیت

تاریخِ اسلام کے افق پر بعض شخصیات ایسی ہیں جن کی ولادت ہی سے ان کی عظمت، انفرادیت اور منصبی بلندی آشکار ہو جاتی ہے۔ امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی ذاتِ گرامی انہی درخشاں ہستیوں میں سب سے اوپر نظر آتی ہے جن کی زندگی کا ہر مرحلہ تاریخ، عقیدت اور تحقیق تینوں حوالوں سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ حضرت علی علیہ السلام کی ولادت باسعادت 13 رجب المرجب، 30 عامُ الفیل (تقریباً 600 عیسوی)، بروز جمعہ، خانۂ کعبہ کے مقدس و مطہر مقام پر ہوئی۔ یہ ایک ایسا شرف ہے جو تاریخِ انسانی میں آپ(ع) کے سوا کسی اور کو نصیب نہیں ہوا۔ بیت اللہ کے اندر ولادت محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک گہرا علامتی پیغام بھی ہے کہ جس ہستی نے آگے چل کر توحید، عدل اور ولایت کا عَلَم بلند کرنا تھا، اس کا آغاز ہی مرکزِ توحید سے ہوا۔

نسبِ پاک اور ہاشمی شرافت

امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کے والدِ گرامی حضرت ابو طالب تھے، جن کا اصل نام عِمران بن عبدالمطلب بیان کیا جاتا ہے جبکہ کنیت ابو طالب مشہور و معروف ہے۔ آپ کی والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ بنت اسد بن ہاشم بن عبد مناف تھیں۔ اس طرح حضرت علی علیہ السلام ماں اور باپ دونوں جانب سے خالص ہاشمی تھے۔ حضرت فاطمہ بنت اسد وہ باعظمت خاتون ہیں جنہوں نے نہ صرف حضرت علی کو جنم دیا بلکہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بھی ابتدائی پرورش میں اہم کردار ادا کیا۔

رسولِ خدا(ص) کی آغوشِ تربیت

حضرت علی علیہ السلام کی ولادت، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کے تقریباً تیس سال بعد ہوئی۔ قدرت نے ابتدا ہی سے آپ کی تربیت و نشوونما کو براہِ راست رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آغوشِ رحمت سے وابستہ کر دیا۔ بچپن ہی سے حضرت علی، نبی اکرم کے گھر میں رہے، ان کی صحبت، کردار، عبادت اور اخلاق کو قریب سے دیکھا اور اسی نورانی ماحول میں پروان چڑھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی کا نزول ہوا اور آپ منصبِ رسالت پر فائز ہوئے تو حضرت علی علیہ السلام کی عمر مبارک محض نو سال تھی۔ بعض شیعہ مصادر میں آپ کو اولُ المؤمنین کہا گیا ہے۔

پہلی نماز اور اولین جماعت

اسلام کی تاریخ کا ایک نہایت روح پرور منظر وہ ہے جب خانۂ کعبہ کے قریب پہلی نماز قائم ہوئی۔ اس اولین جماعت میں صرف تین ہستیاں شریک تھیں: رسولِ خدا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام اور حضرت خدیجہ الکبریٰ سلام اللہ علیہا۔

یہ تینوں توحید کی پہلی عملی صف تھے، جنہوں نے شرک و جاہلیت کے ماحول میں اللہ واحد کی بندگی کا اعلان کیا۔ حضرت علی علیہ السلام کا اس پہلی نماز میں شامل ہونا، اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ آپ کا ایمان کسی جبر، لالچ یا تردد کا نتیجہ نہیں، بلکہ فطری، شعوری اور خالص ایمان تھا۔

تحقیقی و اعتقادی اہمیت

امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کی ولادت، نسب، ابتدائی تربیت اور اولین ایمان جیسے پہلو محض تاریخی بیانات نہیں بلکہ اسلامی فکر، امامت اور ولایت کی بنیادوں سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ خانۂ کعبہ میں ولادت، رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی براہِ راست تربیت اور آغازِ اسلام ہی سے دین کے ساتھ عملی وابستگی، یہ سب اس امر کی نشان دہی کرتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام کی شخصیت اسلام کے فکری، اخلاقی اور عملی ڈھانچے میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ (شیعہ مصادر: شیخ مفید، الارشاد، ج 1، ص 5–6''۔۔ ''شیخ صدوق، علل الشرائع، ج 1، باب ولادت امیرالمومنین علیہ السلام''۔)

دعوتِ ذوالعشیرہ سے میدانِ جہاد تک

بعثتِ نبوی(ص) کے ابتدائی ایّام میں جب اسلام کی دعوت خفیہ مرحلے سے اعلانیہ مرحلے میں داخل ہوئی تو دعوتِ ذوالعشیرہ وہ تاریخی موقع تھا جس نے مستقبلِ امت کی سمت متعین کر دی۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکمِ الٰہی کے تحت اپنے قریبی رشتہ داروں کو جمع کیا اور انہیں توحید، رسالت اور حق کی نصرت کی دعوت دی۔ اس پرخطر اور فیصلہ کن لمحے میں جب بڑے بڑے سردار خاموش یا متردد تھے، حضرت علی علیہ السلام کم سنی کے باوجود پورے یقین اور جرات کے ساتھ اٹھے اور رسولِ خدا کی نصرت کا اعلان کیا۔ یہ وہ تاریخی لبیک تھا جس کے صلے میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے برملا فرمایا کہ: “یہ میرا بھائی، میرا وصی اور میرا خلیفہ ہے”۔

یہ اعلان محض خاندانی قربت کا اظہار نہ تھا، بلکہ اہلیت، ایمان، بصیرت اور آئندہ قیادت کی صریح نشاندہی تھی۔( شیخ مفید، الارشاد، ج 1، ص 28–32.. دعوتِ ذوالعشیرہ)

نصرتِ رسالت کی مسلسل جدوجہد

حضرت علی علیہ السلام کی پوری زندگی نصرتِ دین، تبلیغِ رسالت اور قیامِ عدل کی مسلسل جدوجہد سے عبارت ہے۔ چاہے ہجرت کی شب ہو جب رسولِ خدا کے بستر پر سو کر اپنی جان کو خطرے میں ڈال دیا۔ یا پھر بدر، اُحد، خندق، خیبر اور حنین کے معرکے ہوں، ہر مقام پر حضرت علی(ص) نے اللہ اور اس کے رسول(ص) کے لیے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ دی۔ غزوۂ خندق میں عمرو بن عبدود جیسے نامور جنگجو کے مقابل آنا، خیبر میں مرحب کے قلعے کو مسمار کرنا اور اُحد کے نازک لمحات میں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دفاع۔ یہ سب اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام کی شجاعت محض جسمانی قوت نہیں، بلکہ ایمانی بصیرت، وفاداری اور حق پر ثابت قدمی کا مظہر تھی۔ (علامہ مجلسی، بحار الانوار، ج 18)

محبوبِ خدا و رسول بننے والی صفات

حضرت علی علیہ السلام کی شجاعت، وفاداری، ایثار اور حق کے لیے ہجرت و جہاد وہ صفات تھیں جنہوں نے آپ کو اللہ اور اس کے رسول کا محبوب بنا دیا۔ آپ کا ہر اقدام ذاتی مفاد سے بالاتر اور خالصتاً رضائے الٰہی کے لیے تھا۔ یہی وجہ ہے کہ میدانِ جنگ ہو یا میدانِ قضا و افتاء، ہر جگہ آپ حق کے علمبردار نظر آتے ہیں۔ جس طرح حضرت علی علیہ السلام عدل و شجاعت میں بے مثال تھے، اسی طرح علم و حکمت میں بھی اپنی نظیر آپ تھے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مشہور و مستند ارشاد ہے:“أنا مدینۃُ العلم وعليٌّ بابُها”(میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے)

یہ حدیث حضرت علی کے اس علمی مقام کو واضح کرتی ہے جس تک رسائی، نبوی علم کے دروازے کے بغیر ممکن نہیں۔ حضرت علی علیہ السلام کا علم قرآن فہمی، شریعت کی باریکیوں اور عملی حکمت پر مبنی ایک زندہ علم تھا جو فیصلوں اور قیادت میں جھلکتا تھا۔ (علامہ امینی، الغدیر، ج 2 ۔۔حدیث مدینۃ العلم)

علمی فضیلت اور فیصلہ سازی کی مہارت

حضرت علی علیہ السلام کی علمی برتری، فیصلہ کن بصیرت، عمیق دینی سمجھ بوجھ اور اعلیٰ درجے کا تقویٰ ایسا مسلمہ مقام تھا جسے تمام صحابہ نے تسلیم کیا۔ مشکل ترین قضایا میں آپ کی طرف رجوع کیا جاتا اور آپ کے فیصلے کو حرفِ آخر مانا جاتا تھا۔

حضرت عمر بن خطاب کا یہ قول تاریخ میں محفوظ ہے:

''لولا عليّ لهلك عمر''

(اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا)

(اہلِ سنت منابع: ترمذی، سنن الترمذی، کتاب المناقب۔۔ ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج 3، ص 1107۔۔ سیوطی، تاریخ الخلفاء، ص 170)

یہ اعتراف اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کی علمی و قضائی صلاحیتیں صرف ایک مکتبِ فکر نہیں، بلکہ پورے اسلامی معاشرے کے لیے مرجع تھیں۔

ولایت، خاندان، شہادت اور فضائل

امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی زندگی اسلامی تاریخ میں معرفت، علم، شجاعت اور ولایت کی روشن مثال ہے۔ ان کی شخصیت نہ صرف سیاسی و اجتماعی رہنمائی کی حامل تھی بلکہ علمی، اخلاقی اور روحانی اعتبار سے بھی امت کے لیے معیارِ کامل تھی۔

حضرت علی علیہ السلام کا پہلا عقد حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اکلوتی بیٹی سیدہ النساء العالمین، حضرت فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا سے سن دو ہجری میں ہوا۔ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی زندگی میں آپ نے کوئی دوسرا عقد نہیں کیا۔ حضرت علی اور حضرت فاطمہ کی اولاد میں امام حسن علیہ السلام، امام حسین علیہ السلام، جناب زینب سلام اللہ علیہا اور جناب ام کلثوم سلام اللہ علیہا شامل ہیں۔

حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی وفات کے بعد حضرت علی نے دیگر ازواج سے بھی عقد کیے، جن سے متعدد اولادیں ہوئیں، جن میں حضرت عباس علیہ السلام، حضرت جعفر، حضرت عبداللہ اور حضرت محمد بن حنفیہ نمایاں ہیں۔(شیخ مفید، الارشاد، ج 2، ص 35–40)

شہادت اور حیاتِ دنیا

حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے حیاتِ دنیاوی کے 63 سال گزارے اور 21 رمضان المبارک، 40 ہجری کو ابن ملجم کی ضربت سے شہادت پائی۔ آپ اس وقت حالتِ نماز میں تھے، جب قاتل نے انہیں شدید زخمی کیا۔(سیوطی، تاریخ الخلفاء، ص 184)

حضرت علی علیہ السلام پیغمبر خدا کی جانشین وسیع اور خلیفہ تھے، اور آپ(ع) کی زندگی میں علمی فضیلت، اخلاقی عظمت اور منقبت کے متعدد پہلو جلوہ گر ہیں۔

علمی و اخلاقی فضائل

حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں متعدد احادیث وارد ہوئی ہیں، جن میں آپ کی ولایت، علم، شجاعت اور عدل کی تعریف کی گئی ہے۔ قرآن کریم کی کئی آیات بھی حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کی گواہ ہیں، جن میں ان کا امتیاز واضح ہے:

آیتِ تطہیر:

"إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا"

(سورۃ احزاب: 33) حضرت علی اور اہل بیت کا پاکیزگی میں امتیاز

آیتِ مودّت:

"قُل لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى"

(سورۃ شوریٰ: 23) اہل بیت کی محبت کی تاکید

آیاتِ زکوٰۃ، رکوع اور نجوہ میں حکم:

حضرت علی کی صدقہ و زکوٰۃ کی ادائیگی اور عبادت میں کامل اخلاص قرآن کی روشنی میں نمایاں ہیں۔

امتیازاتِ روحانی و اخلاقی

حضرت علی علیہ السلام نفس رسول ہیں، یعنی آپ علیہ السلام رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تمام کمالات کا آئینہ ہیں باستثناء نبوت۔ چونکہ جناب ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں تمام انبیاء کے کمالات شامل ہیں، اسی لیے حضرت علی علیہ السلام بھی تمام انبیاء کے کمالات کا مظہر ہیں۔ آپ علیہ السلام سبب اللہ ہیں، یعنی اللہ کی رضا کا ذریعہ ہیں۔

آپ علیہ السلام کے چہرے کی طرف دیکھنا عبادت ہے، آپ کا ذکر عبادت ہے اور آپ کی محبت کے بغیر عبادت ناقص ہے۔ (اہل سنت منابع: ترمذی، سنن الترمذی، کتاب المناقب سیوطی، الجامع الصغیر، ص 102)

امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی پوری زندگی اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ آپ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد امت کے برحق امام اور ولی تھے، جنہیں اللہ کے حکم اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اعلان کے ذریعے قیادت و رہنمائی کا منصب عطا ہوا۔ آپ کی ولایت صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ دینِ اسلام کے تسلسل اور اس کی حفاظت کی ضمانت ہے کیونکہ علم، تقویٰ، عدل اور شجاعت میں آپ کا کوئی ہمسر نہیں۔ رسولِ خدا(ص) کی تربیت یافتہ یہ عظیم ہستی امت کے لیے حق و باطل کے درمیان میزان ہے، اور آپ کی امامت کو ماننا دراصل دینِ محمدی(ص) کی صحیح روح کو قبول کرنا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha